.......یوم جمہوریہ کل اور آج ......
میں اپنی بات براق اوباما کے اس قول سے شروع کر رہا ہوں جو چیف گیسٹ کی حیثیت سے66واں جشنِ یوم جمہوریہ 26 جنوری 2015 کے موقع پر ہندوستان میں عوامی ہجوم کے سامنے انڈیا گیٹ سے کہا تھا کہ
"ملک ہندوستان کو ذات پات اور فرقہ وارانہ سیاست کو چھوڑ دینا چاہیے تبھی وہ ترقی کے اونچے چوٹی کو سیر کر سکتی ہے "
امسال 67 واں یوم جمہوریہ میں مودی سرکار نے چیف گیسٹ کی حیثیت سے فرنچ صدر فرانکوئس ہولانڈ کو مدعو کیا ہے. خیر قبل از وقت صدر صاحب کے لیکچر پر قیاس آرائی کر نا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ ہولاند نے جو بھی محسوس کیا ہوگا وہ 26 جنوری کو پتہ چل ہی جائے گا کہ ان کے نظر میں ملک ہندوستان کس سمت کو جا رہی ھے اور کدھر جانا چاہیے.
باوجود ان باتوں کے یوم جمہوریہ ہم ہندوستانییوں کے لیے ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے . کیونکہ یہ بات مسلمہ حقیقت ہیکہ ہندوستان کو انگریزوں کے ظلم و استبداد سے 15 اگست 1947 کو آزادی مل گئ تھی مگر پھر بھی آزادی عارضی آزادی تھی .لوگوں کو آزاد ہندوستان میں ان کے حقوق کے تحفظ اور ان کے حقوق کے بارے میں کوئ حتمی جانکاری نھیں تھی. ان باتوں کو صحیح سے سمجھنے کے لئے ہمیں ذرا اس تاریخی حقیقت کے پس منظر کو پڑھنے کی ضرورت ہے.دراصل 1945 میں جب دوسری جنگ عظیم ہوئ اسوقت انگلینڈ میں بیک وقت دو مسئلہ درپیش آیا ایک تو دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے ملک برطانیہ معاشی اعتبار سےکافی کمزور ہو گئی تھی اور دوسری بات یہ ہوئ کہ 1945 ہی میں لیبر پارٹی نے برطانیہ میں الیکشن جیت لیا تھا.جسکا سیدہا اثر سالوں سے آزادی کے لیے اپنی جان کی قربانی دینے والے ہندوستانی مجاہدین کو بھی ہوئ ان کے اندر لیبر پارٹی کے جیتنے سے ایک جوش و جزبہ کا طوفان بہنے لگا کہ اب بہت جلد ہندوستانییوں کو بھی انگیزوں سے مکمل آزادی مل جائے گی.چنانچہ 1945 میں ایسا ہی ہوا کہ لارڈ ڈاول نے ہندوستانی مجاہدینوں سے رابط کرنا شروع کیا کہ اب طاقت کو ہندوستان کے حوالے کر دیا جانا چاہئے اور اسی مناسبت ہی سے فروری 1947ء میں لارڈ ماونٹ بٹن کو ملک ہندوستان کا آخری وائسرائے بنا یا گیا اور اس سے اس بات کی فرمائش بھی ہوئ کہ وہ ہندوستانی لیڈران سے ملکر ایک خودمختار مثالی اور متحد ہندوستان کا قیام عمل میں لانے میں ہندوستانیوں کا بھر پور مدد کرے.لارڈ ماونٹ بٹن نے اعلان بھی کیا کہ جون 1948 تک ہندوستان کو مکمل طور پر ہندوستانییوں کے حوالے کر دیا جائے گا.ساتھ ساتھ انہونے اپنے طور پر نہرو جناح وغیرہ لیڈران سے رابطہ شروع کر دی مگر شوم قسمت دیکھئے کہ سیاسی ناچاقی اور انا نیت کے بناپر قبل از وقت 1947 ہی میں ہندوستان کو قتل کر کے اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا اور 1947 میں ایک نیا ملک پاکستان کا قیام عمل میں آیا.
خیر باقی کی باتوں کو جانے دیجئے کیونکہ فسادات 1947 پر مزید گفتگو پندرہ اگست کے موقع پر ہوگی.اب بس اتنا پڑھ لیجئے کہ ملک کے تقسیم ہونے کے بعد ہندوستان بھر میں ایک سقوط سا چھا گیا. لوگوں میں اب خوف و حراس جیسا ماحول پنپنے لگا،اقلیت اور اکثریت کا سنگین مسئلہ سر اٹھانے لگا، لوگوں کو اپنی عزت و آبرو کی فکر دامنگیر ہونے لگی،ایسے نازک اور پرخطر دور میں سب سے زیادہ اگر کسی چیز کی ضرورت تھی تو ایک دستور کی ایک آئین کی ایک قاعدے کی ایک مستحکم اور خود مختار قانون کی.جس میں اس بات کا ذکر ہو کہ اکثریت کے بیچ میں اقلیت کیسے رہ سکتی ہے.کیونکہ ہندوستان بھر میں اتنے زیادہ مذاہب تھے کہ اسکی حفاظت کیسے کی جائے یہ ایک بہت بڑا سنگین مسئلہ تھا، مالدار اور غریب میں فرق، اونچ ذاتی اور نیچ ذاتی میں کیسے صلح مشورہ کرایا جائے کیسے سبکو ایک ساتھ ایک ملک ایک سماج میں رکھا جائے اسکا فکر ہمارے تمام مدبران اور لیڈران کو دامنگیر ہونے لگی. 1947 کے بعد سب سے بڑا مسئلہ جو درپیش آیا وہ یہ تھا کہ اب تک ہندوستان میں عوامی حکومت کبھی قائم نہیں ہوئ تھی،اس سے پہلے جو حکومتیں آئیں وہ یاتو راجا مہاراجاووں کی حکومت تھی جو ملک کے ہر کونے میں الگ الگ حکومت حکومت قائم کر رکھی تھی. یا پھر ترک مسلمانوں نے ہندوستان پر حکومت کی ان میں بھی کسی نے بھی بیک وقت پورے ہندوستان پر حکومت نہیں کی کسی نے اکیلے صرف مالوہ پر کسی نے افغانستان پر کسی نے صرف دہلی پر اور کسی نے حیدرآباد وغیرہ وغیرہ پر منفرد حکومت قائم کی. بالآخر ایک مغلیہ سلطنت ہی ایسی تھی جسکا انتظام و انصرام پورے ملک بھر میں قائم تھا.لیکن اب حالات دوسرے تھے اسوقت مغلیہ سلطنت میں اقلیت اور اکثریت کا مسئلہ نہیں تھا انہے جو قاعدے قانون اچھا لگا اپنے لئے اور عوام کے لئے اچھا سمجھا بادشاہ وقت نے عوام پر صادر کر دیا نا عام عوام کی اس میں دخل اندازی ہوتی اور نہ عام لوگ دخل دینا ہی چاہتے تھے. اسلئے موجودہ ہندوستان میں اسکو قانون کو بھی 1947 کے بعد عوام پر لاگو نہیں کیا جا سکتا تھا. إن سارے مسائل سے ہمارے لیڈران اور مدبران بہت زیادہ ششدر و پریشان تھے. انہی مسائل کے مد نظر 1946 میں ایک کیبینٹ مشن اور پھر کنسٹی یٹوشن اسمبلی بنایا گیا جس میں نہرو، مولانا آزاد ،امبیڈکر، پٹیل راجندر پرساد وغیرہ لوگوں کو شامل کیا گیا تاکے ایک سیکولر اور خود مختار آئین بنکر تیار ہو جائے چنانچہ کنسٹی یٹوشن اسمبلی کی پیلی مٹنگ 19 دسمبر 1946 کو ہوئ اور باضابطہ طور پر اس مٹنگ میں تمام اقلیت اکثریت مختلف علاقوں مقامات ذات پات امیر غریب مختلف مذاہب تجارت اور معاشیت کا خیال رکھا گیا. مسلسل چار سال تک یہ اسمبلی چلی جس کے لئے ایک کروڑ روپے کا بجٹ بھی تعین کیا گیا تھا.کل 11 مٹینگیں عمل میں آئیں اور بلا آخری 26 نومبر 1949 کو آخری مٹنگ کے ساتھ اختتام عمل میں آیا.
قارئین! آپ کے فائدے کے لیے بتادوں کے 29 اگست 1947 کو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے صدارت میں ایک ڈرافٹنگ کمیٹی بنائ گئ جس کے ساتھ سوامی ایر، مولانا ابوالکلام آزاد ،پنڈت نہرو ،بلبھ بھائ پٹیل، سید محمد،سعد اللہ ایم منشی،راجندر پرساد وغیرہ مدبران شامل تھے ان ہی لوگوں کے ان تھک محنت لگن اور کوششوں سے ایک فیصلہ کن اور مستحکم و مضبوط دستور عمل عمل میں آیا جسکا اختتام 24 جنوری 1950 کو ہوا اور 26 جنوری 1950 کو اس کنسٹی یٹوشن کو پورے ہندوستان میں لاگو کیا گیا.ہمارے کنسٹی یٹوشن کو بنانے میں کل دو سال گیارہ مہینہ اور اٹھارہ دن لگے .مزید بتا دوں کے اس لائحہ عمل کو تیار کرنے میں مختلف ممالک کے دستوروں اور کنسٹی یٹوشنوں سے فائدے لئے گئے تاکے ایک سیکولر اور جمہوری آئین بنکر تیار ہو جائے جس میں ایک ایک شہری کا خیال ہو جس میں ہر طبقہ اور ہر ذات کا بھر پور خیال رکھا گیا ہو چنانچہ ملک ہندوستان کے کنسٹی یٹوشن کو تیار کرنے میں مختلف ممالک کے کنسٹی یٹوشن سے مدد لی گئی ہیں جن میں بریٹش کنسٹی یٹوشن، یونائیٹیڈ اسٹیٹ کنسٹی یٹوشن، آئرش کنسٹی یٹوشن، آسٹریلیا کے کنسٹی یٹوشن، فرانس کے کنسٹی یٹوشن، کینیڈا کے کنسٹی یٹوشن اور سویت یونین کے کنسٹی یٹوشن سے اور ایمرجنسی کے بارے میں جرمنی کے کنسٹی یٹوشن سے مدد لیا گیا ہے.اسطرح سے ایک مکمل نظام ہند یا دستور ہند کا ہیولی بن کے تیار ہوا ہے .جس کو 26 جنوری 1950 میں پورے ملک بھر میں لاگو کر دیا گیا. اسلئے وہ تمام کے تمام مدبران مبارک بادی کے قابل ہیں جنہوں نے اس ڈرافٹنگ کمیٹی کو کامیاب بنانے میں مدد کی بسااوقت ہم اس جشن میں ڈاکٹر امبیڈکر کا نام لیکر جلدی بازی سے آگے نکل جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کے اس دستور ہند کو بنانے میں امبیڈکر کے ساتھ وہ لوگ بھی برابر کے داد کے مستحق ہیں جنہوں نے دن رات کی انتھک کوششوں اور محنتوں سے دستور ہند کو پائہ تکمیل تک پہنچایا اور اسے ملک میں نافذ کیا ورنہ ملک ہندوستان کی آزادی آدھی آدھوری آزادی بن کے رہ جاتی اور لوگوں میں قتل و غارت کا ایک لا متناہی سلسلہ چلتا رہتا.
اس سال جو ہم لوگ 67واں جشن یوم جمہوریہ منانے جا رہے ہیں وہ 26 جنوری 1950کی یاد کو تازہ کرنے جا رہے ہیکہ پچھلے 66 سال سے ملک ہندوستان میں دستور ہند کا نفاذ عمل میں آرہا ہے. اسپر عمل پیرا ہوکر ہندوستان ترقی پذیر ممالک کے فہرست میں سب سے اوپر ہے اور 67واں سال بھی ہندوستاں آگے بڈھتی ہی رہے گی.
اب آئے میں اپنی بات کیطرف واپس چلتا ہوں کہ پچھلے سال صدر اوباما آئے تھے اور اس سال فرانس کے صدر ہولانڈ تشریف لا رہے ہیں. در اصل یہ کوئ بڑی حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ صدر صاحب آئیں گے اور ایک دو دن میں مہمان نوازی کر کے واپس بھی چلے جائیں گے. لیکن سوال یہ ہیکہ کیا اس سے ہمارا جو دستور ہے اس میں کوئ فرق پڑیگا کیونکہ یہ تلخ حقیقت ہیکہ ابھی تک ہمارے ملک میں دستور یا کنسٹی یٹوشن کا مکمل نفاظ عمل میں نھیں آیا ہے اور اگر آیا بھی ہے تو تمام کے تمام لوگوں کو ابھی تک اس کا مکمل فائدہ نھیں پہنچا ہے. اور اب بھی ہندوستان میں ذات پات اور کاسٹسزم پر وٹنگ ہوتی ہے اب بھی مذہب کے نام پر دنگے ہو تے جا رہے ہیں. پھر ہم کسی سیکولر ملک کے پریسیڈنٹ کو بلاکر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ کہ ہمارا ملک اب سیکولر ملک بن چکا ہے ؟یا یہ ثابت کر نا چاہتے ہیں کہ ہمارا اٹھنا بیٹھنا بڑے بڑے سپر پاور ممالک کے سربراہان سے ہے؟ یا ہندوستان کا شمار اب سپر پاور ممالک کے فہرست میں ہونی چاہیے؟ اگر ایسا ہے تو موجودہ سرکار کو شرم کرنی چاہیے کیونکہ ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں 80 پر تیشت لوگ اب بھی جمہوریت چاہتے ہیں مگر سیاسی لیڈران انہی الیکش کے وقت بھڑ کا کر کاسٹسزم کے ذریعہ الیکشن جیتنے کی ناکام کوشش کر تے ہیں اور بسا اوقات بعض پارٹیاں الیکش جیت بھی جاتی ہے.پھر ان سیکولر ملک کے صدر کو بلا کر کیا باور کرانا چاہتے ہیں.؟
میں 1995 کی بات بتا رہاہوں جب یوم جمہوریہ کے موقع پر نیلسن منڈیلا کو دعوت دی گئی تھی اور لوگوں کے سامنے ان کی قربانی کو یاد کی گیا تھا کہ کسطرح سے اسنے اپنی پوری ذندگی کو گورا کالا کے فرق کو مٹانے کے لیے قربان کر دیا اس کو مدعو کرنے کا ایک مقصد تھا. منڈیلا جیسے لیڈر کے آنے سے ہندوستان کے عوام میں اور یہاں کے لیڈروں میں ایک جزبہ پیدا ہوتا تھا کہ ہندوستان کو بھی ایک مکمل جمہوری ملک بننا چاپئے مذہب کے نام پر اور نسل کے نام پر جو عوام کو لڑا رہے ہیں ان عناصر کو ختم کیا جانا چاہئے . ایک دور تھا جب ملک ہندوستان مظلوم قوموں کے ساتھ کھڑی ہوتی تھی اور شوق سے فلسطینی صدر یاسر عرفات کو مدعو کیا جاتا تھا اسوقت ایسا لگتا تھا ہندوستان کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ بہت سے ممالک ہیں جو مصیبت کے وقت ساتھ دے سکتے ہے مگر اب وہ زمانہ نہیں رہا اب تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کو دیگر ممالک کے لیڈران اس وجہ سے پسند کرتے ہیں کیونکہ یہاں آبادی زیادہ ہے یہاں ان ممالک کے کمپنیوں کو اچھی خاصی کمائی ہو جایا کرتی ہے.وہ ہندوستان کو لوٹ کے لیجا رہے ہیں اور ہماری حکومت بجائے اپنے ملک کے کمپنیوں کو بڑھاوا دینے کے الٹے دوسرے ممالک کے کمپنیوں کو مراعات دے رہی ھے تاکہ وہ مزید ہندوستان کو کنگال کر دے.
قارئین کسی بھی ملک کو ترقی کے لئے اول زینہ وہاں کے عوام ہوتے ہیں اگر عوام میں خوش حالی نہیں ہے تو وہ ملک چاہے جتنا بھی مالدار کیوں نہ ہو جائے وہ کبھی خوش حال ملک نہیں بن سکتی .اولا ہمارے ملک کے ہر شاخ کو مضبوط کرنا پڑیگا اور ہر شاخ کو مضبوط کرنے کے لیے ہمارے حکومت کو ملک کے بنیاد کو مضبوط کرنا پڑیگا .اور بنیاد مضبوط ہوگی عوام کے اتحاد و اتفاق سے آپس میں دوستی سے مختلف خانوں میں تقسیم ھو نے کے بجائے ایک پلیٹ فارم میں آنے سے جبھی تمام لوگ ملک کی فکر کرینگے اور ملک کو مضبوط اور طاقت ور ملک بنانے کی کوشش کر ینگے. یاد رکھئے آج ملک کی نا اتفاقی ہی ہیکہ ملک کے اندر رہ کر لوگ دہشت گردوں کا ساتھ دینے لگتا ہے اور اس کا خمیازہ عام عام کو بھگتا پڑتا ہے اسلئے عوام کو اس بات کا احساس دلانا پڑیگا کہ جو انسانیت کا دشمن ہے وہ ملک کا بھی دشمن ہے اور جو ملک کا دشمن ہے وہ ہمارا اور ہندوستانیوں کا دشمن ہے اور ایسا تبھی ہوگا جب تمام لوگوں کو برابر کا حق دیا جائے . مگر اللہ معاف کرے آج ملک کی حالات آئے دن خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں، مذہبی منافرت مذہبی مخالفت اور مذہب کے نام پر لوگوں میں زہر افشانی ہو رہی ھے اور ہماری حکومت بجائے ان چیزوں کے سدھارنے کے بس اس بات کا ڈنکا بجانے میں مصروف ہیکہ دنیا میں سب سے بڑا سیکولر ملک اگر کوئ ہے تو وہ ملک ہندوستان ہی ہے. بلکہ ہونا تو یہ تھا کہ حکومت اس بات کی کوشش کر تے کی ملک ہندوستان میں اب بھی صد فیصد دستور ہند کی نفاذی نہیں ہوئ اسکو عمل میں لاتے اور کنسٹی یٹوشن کے عمل میں جو رکاوٹیں آرہی ہیں اسے دور کرتے. مگر باوجود اسکے ہم اس بار پھر سے اس بات کی امید رکھتے ہیں کے 67واں جشن یوم جمہوریہ کے موقع پر ہم تمام ہندوستان کے عوام اس بات کا قسم لیں کے ہمارے دستور کو بنانے والے جس سوچ کے ساتھ دستور اور کنسٹی یٹوشن کو عمل میں لایئےتھے اور ہندوستان کو آزادی کے بعد جیسا بنانے کا سپنا دیکھے تھے اس کی خواہش اور سپنوں کو سچ کرنے میں اپنی محنت اور طاقت کو ملک کے حوالے کرینگے اور ہندوستان کو ایک جمہوری ملک بنا کر دم لینگے.
( فیروز ہارونی:ریسرچ اسکالر دھلی یونیورسٹی...
fmharuni@gmail.com )