Monday, December 3, 2018

دھت تریکی ۔۔۔

                       ۔۔۔۔ دھت تیری کی۔۔۔۔

        بھائ صاحب دوست کا پیار دیکھئے  مجھ سے نہیں بلکہ اپنی بیوی سے ۔میرا پیارا دوست ملک سے باہر رہتا ہے ۔آج اسی کی شامت آئ ہے پورے طور پر آج اسی کی بات ہو رہی ہے۔
    جب سے کنسٹی ٹیوشن میں آرٹیکل 377 کو منظوری ملی ہے تب سے کسی ہم جنس دوست کو پیار کی بات یا پھر بہت پیار کرتا ہوں یا لو یو بول دیتا ہوں۔تو کئ لوگ ترچھی نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں ۔شاید ویسے لوگ یہ سوچتے ہونگے کہ یہ لوگ بھی پھکیت لوگ ہی ہیں جو اپنے ہی جنس سے اپنی ساری خوہشات پوری کرتے ہیں ۔میرے ایک دوست ایسے ہی ہیں جو میرے دل کے بہت ہی قریب ہے۔لیکن ویسا والا نہیں بلکہ دینی دوست ہے ۔نام  نہیں لکھ سکتا سالابگڑ جائگا۔آپ لوگ پڑھئے اور بتائے صحیح کیا ہے۔ بیوی کے پیار میں ایسی کیا مجبوری ۔نابھائ نا یہ سب تو کچھ زیادہ ہی ہے۔
        ابھی کل کی بات ہے دونوں دوست شام میں بیٹھکر چائے پی رہا تھا۔باتوں ہی باتوں میں مجھ سے کہنے لگا بھائ فیروز کیا بتاؤں میری اہلیہ مجھے بے انتہا چاہتی ہے بہت زیادہ بس یہ سمجھ لو کہ مجھے وہ اپنے بیڈ روم سے باہر نکلنے دینا ہی نہیں چاہتی۔ہمیشہ اپنے پاس رکھ کر بات کرنا ہنس ہنس کر سوال کرنا اور کھل کھلا کر جواب دینا بیوی کے دن بھر کا مشغلہ رہتا ہے ۔اس چکر میں کئ بار تو میں نماز میں بھی دیر ہوجاتا ہوں ۔لیکن کیا کروں یہ سب بیوی کا پیار ہے انکار نہیں کر سکتا آخر میں بھی تو انسان ہوں  بیوی کے جزبات کو سمجھ سکتا ہوں۔
       بقول انہی کہ کہ بیوی کے پیار کا یہ عالم ہے کہ گھر آنے کے بعد نہ کسی دوست کا فون رسیو کر پاتا ہوں اور ناہی گاوں سماج کے لوگوں سے ملاقات کر کچھ دین دینا کی باتیں کر پاتا ہوں ۔کچھ دیر کے لئے گھر سے نکلہ بس بیوی کا کال آ دھمکا۔کہاں ہیں آپ ،میں کب سے آپکا انتظار کر رہی ہوں، کب تک واپس آنا ہے ،اپ کو تو میری فکر ہی نہیں ہے ۔اپ بس چند دن کے مہمان ہیں اپ ادھر ادھر گھومتے رہیئے مجھے بلکل یہ سب اچھا نہیں لگتا ہے۔یار فیروز قسم سے میری بیوی مجھے بہت چاہتی ہے بے انتہا مجھ سے محبت کرتی ہے ۔
       اور تو اور میرے دوست کے بیوی کے چاہت کا یہ عالم ہے کہ انکو پچھلے ہفتہ بینک جانا تھا۔دوست کا گھر شہر سے تھوڑا دور ہے اس وجہ سے انہوں نے سوچا کے بینک کا کام جلدی جلدی کرکے اپنی چھوٹی بہن کا گھر بھی چلا جائیگا۔تاکہ ایک دن میں ہی دونوں کام ہوجائے۔
     آخر گھر آئے ایک مہنہ بھی تو ہو گیا ہے لیکن ابھی تک کسی بہن سے ملاقات نہیں ہو پائ ہے۔دوست نے اس دن سوچاتھا  کہ آج بہن سے ملاقات ہو جائے گی ۔بقول دوست کے میری اہلیہ نہانے باتھ روم گئی ہوئ تھی۔مجھے معلوم تھا بیوی کو بہن کا گھر جانا اچھا نہیں لگے گا اسلئے سوچا بیوی نہیں ہے بہن کو جلدی فون کرکے بتادوں کہ دوپہر میں تم سے ملنے آرہا ہوں ۔۔
          بستر پر لیٹے لیٹے دروازے کے جانب سر اور پیر کو پلنگ کے اوپر سے دیوار پر ٹکائے اپنے بہن کو فون کیا ۔ہیلو گلناز کیسی ہو اور کیا کر رہی ہو۔کچھ نہیں بھیا بس نہانے جارہی ہوں۔اتنی جلدی ابھی تو بس گیارہ ہی بجے ہیں ۔ہاں بھیا سوچ رہی ہوں تھوڑی جلدی نہالوں تاکے وقت پر نماز پڑھ پاؤں۔اچھا سنو میں آج تم سے ملنے آرہا ہوں ۔     
        سچ میں کتنی اچھی بات ہے بھابی کو بھی ساتھ میں لا رہے ہیں نا ۔نہیں تمہاری بھابی پھر کبھی آئے گی ۔آج میں اکیلے ہی  آرہا ہوں۔ٹھیک  ہے بھائ جان ضرور آئے ۔
    ابھی یہ سب باتیں ہو ہی رہی تھی کہ اہلیہ محترمہ دروازے کے سائڈ کھڑی سب کچھ آرام سے سن لی۔لیکن بڑی چالاکی سے جب دیکھی کہ اب ساری باتیں ختم ہوگئ ہے تو کچھ سکنڈ بعد کنرہ کے اندر آئ ۔اور کہنے لگی اچھا تومیاں یہ پیر نیچے بھی کر لیجئے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ سر میں خون جمع ہو جائے اور سر چکرانے لگے ۔
      ارے تم آگئ ٹھیک ہے سنو میرے لئے استری کیا ہوا ایک جوڑی کپڑا نکال لاؤ مجھے بینک کے کام سے بازار جانے ہیں ۔۔بیوی کہ پڑی تو اس میں آپکو استری کئے ہوئے  کپڑے کی کیا ضرورت پڑ گئ جو پہنے ہیں اسی کپڑے میں چلے جائے ۔اور ہاں جلدی واپس آجائے گا پھر کہ پڑی اچھا کتنا وقت لگے گا آپکو بینک میں ۔بس یہی کچھ ایک گھنٹہ۔ٹھیک ہے تو آپ جائے ابھی گیارہ بج رہا ہے بارہ  ساڑھے بارہ بجے تک واپس گھر آجانا چاہیے اور گھر آکر ہی کھانا کھائیے گا۔ٹھیک ہے دیکھتا ہوں۔دیکھئے مجھے تو آپکو ایک منٹ کے لئے بھی باہر بھیجنے  کا من نہیں کرتا ہے بس بینک کا کام ہے اس وجہ سے کچھ کہ نہیں سکتی۔اچھا خیر میں آجاونگا ۔تم کپڑا نکالو تو صحیح۔دوست کی بیوی نے طوعاوکرہا پرانا سا ایک کپڑے کا جوڑا جو نہ جانے کب سے پریس کرکے رکھا ہوا تھا نکال کر دے دیا ۔
     یار وہ والا کپڑا نکال دو نا جو پچھلے ہفتہ جمعرات کو پہن کے سسرال گیاہوا تھا ۔نہیں اس میں ابھی تک استری نہیں ہوئ ہے ایسے ہی رکھا ہوا ہے۔اسے ہی پہن لیں ۔جلدی جائیں آپ لیٹ ہو رہے ہیں ۔اچھا خیر  اسکو رہنے دو وہ والا کپڑا نکال دو جسکو پہن کر پرسوں تمہاری چھوٹی بہن کے گھر گیا ہوا تھا ۔وہ بھی ابھی صاف نہیں ہوا ہے ۔کہاں یار مجھے النا میں بغیر صاف کیا ہوا کوئ کپڑا تو دیکھ نہیں رہاہے ۔اچھا ایسا کرو اس پرانے کپڑے کے بجائے مجھے وہ والا کرتا پاجامہ دیدو جو بڑی باجی نے دی تھی۔
    جانوں آپ اسی کو پہن لیجئے نا بینک ہی تو جارہے ہیں اب کوئ رشتہ لیکر اپ کے لئے نہیں آرہا ہے جو اتنا سجا دھجا جائے۔مرتا کیا نہ کرتا میرے دوست نے اسی پرانے کپڑے کو پہن لیا جبکہ سارے کپڑے پریس کرکے الماری کے اندر رکھے ہوئے تھے۔
       ادھر گلناز  کا خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا ۔جیسے ہی بھائ کا کال آیا۔ اپنے شوہر کو فون کی۔اجی میرے بھائ جان آرہے ہیں جلدی سے کچھ مٹھائ اور کچھ اسپیشل سالن لے آئے ۔اور ہاں بہت دنوں کے بعد آرہے ہیں اس وجہ سے مٹن ہی لے آئیں تو بہتر ہوگا۔کچھ اچھی مٹھائ بھی بھائ جان کے لئے لیتے آئے گا ۔بھائ جان کو گاجر کا ہلوا ، برفی اور  رسملائ  بہت پسند ہے اس لئے پلیز یہ تینوں چیز یں ضرور لیتے آئیگا۔اچھا ٹھیک ہے میں کچھ دیر میں لیکر آتا ہوں ۔دونوں شوہر بیوی نے ہنستے مسکراتے بھائ کے مہمان نوازی کا انتظام کرنے لگا ۔
     میرے  دوست نے اسی کپڑا کو پہن لیا لیکن پھر سے جوتے میں اختلاف ہو گیا بیوی کہ رہی تھی باہر سینڈل ہے اسی کو پہن کر چلے جائے اور اور شوہر کی خواہش تھی کہ کل جو نیا جوتا بازار سے  لایا ہوں اسی کو پہن کر بہن کے گھر جانا ہے تاکے بہن دیکھکر خوش ہوجائے۔لیکن پیاری بیوی کو یہ سب راس نہیں آیا انہوں نے اسی کپڑے اور سینڈل میں اپنے شوہر کو باہر بھیج دیا یہ کہ کر کے آخر بینک ہی تو جانا ہے۔
         دوست کے گھر سے نکلنے اور بینک پہنچنے تک میں لگ بھگ تین چار دفعہ انکی اہلیہ نے اپنے شوہر کو فون کرکے  پوچھ بھی لیا کہاں تک پہنچے۔ آہستہ آہستہ سے جائیے،اپنا خیال کرکے بائک کو صحیح سمت چلائے اور سنئے بائک کواسٹینڈ پر لگا کر ہی بینک کے اندر جائیگا وغیرہ وغیرہ ۔
        جب اس بات کی تصدیق ہو گئ کہ شوہر صاحب اب بینک کے اندر چلے گئے تو بیوی صاحبہ نے اپنا بال کھولا بال کو سکھایا اور بال میں تیل لگائ۔کنگھی وغیرہ سے فارغ ہوکر دوبارہ اپنے پیارے شوہر کو فون کی ۔کہاں ہیں جی ۔ارے یار بس بینک سے نکلہ ہوں اب بائک کے طرف جا رہاہوں۔
     اچھا سنیے پلیز میرا ایک کام کرتے آئیے۔کیا کام ہے ۔آج امی نے جو کھانا بنایا ہے وہ کھانا اچھا نہیں ہےآپ کچھ کھانا پیاک کراکے گھر لے آئیے۔ بلکہ ایسا کریں کہ ایک کیلو بریانی ہی پیک کرا لیجئیگا تو بہتر ہوگا ۔اور اس دوڑائ کے دکان پر نیبھیا کا کولڈ کریم نہیں ملا تھا آج وہ بھی لے لیجئیگا ۔جلدی آئے میں آپکا انتظار کر رہی ہوں اپ آئیں گے تبھی میں کھانا کھاونگی ۔مجھے بہت تیز بھوک لگی ہے۔لیکن آپکو تو پتہ ہی ہے آپکو چھوڑکر میں اکیلے کھانا کھا نہیںسکتی ۔
         ادھر گلناز پھولے نا سمائے جلدی جلدی اپنے بیٹا بیٹی کو  نہلا دھلا کر تیار کردی۔ماما کا نام سنکر ویسے بھی بچوں کے خوشی کا ٹھکانا نہیں رہتا ہے اسلئے بچے بھی پورے گھر میں ہنگامہ شروع کر دیئے ماما آرہے ہیں  ماما آرہے ہیں ۔
        دیکھتے ہی دیکھتے  ایک بجے تک کھانا بھی تیار ہوگیا اب بس بھائ کے فون کا انتظار تھا۔ایک بار گلناز کے شوہر نے کہا بھی کہ میں بھیا کو کال کر لیتا ہوں لیکن گلناز نے کہا کے بھائ جان کچھ دیر میں ہی پہنچ جائیں گے۔فون کرنے کی کیا ضرورت ہے۔   
      ادھر شوہر کا پیار دیکھئے جیسے ہی بیوی کی فرمائش بریانی اور کریم کی سنی تو سکپکا سا گیا اور بیوی سے کہنے لگا ۔یار میں سوچ رہاہوں کہ ادھر سے گلناز سے ملاقات کرتا  چلو ۔گاوں آئے ایک مہنہ سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا ہے لیکن ابھی تک ایک بار بھی گلناز سے ملاقات نہیں ہو پائ ہے ۔بیوی کہ پڑی اچھا ٹھیک ہے پھر کبھی چلا جائیگا اپنی بہن سے ملنے آج واپس گھر آجائے میں آج آپکے ساتھ ہی کھانا کھاونگی۔
     دوست نے کچھ دیر سوچا بیوی نے اس انداز سے بات کی کہ انکا دل بھر آیا سوچا واقعی بیوی کو بریانی کھلانا چاہیے سوچا کسی دوست کے ہاتھ بریانی بھیج دیتا ہوں۔انہوں نے اپنے کئ دوستوں کو فون کیا ایک دوست بازار ہی میں تھا۔ شوہر نے ایک کیلو بریانی اور کریم خرید کر اپنے چہتی اہلیہ کے لئے گھر بھیج دیا۔آدھے گھنٹے  میں بریانی گھر پہنچ گئ ۔جب سامان کا بیگ اہلیہ محترمہ کے ہاتھ میں گیا تو وہ اس اردے سے پوچھ بیٹھی کہ شوہر بھی پیچھے ہی ہونگے ۔آپکے دوست کہاں ہیں۔انہوں نے کہاابھی بازار میں ہی ہیں کچھ دیر کے بعد آئیں گے ۔اچھا ٹھیک ہے۔
        میرے دوست نے بہن کے گھر جانے کے لئے دو تین طرح کی مٹھائ خریدیخاصکر کرجو جو مٹھائیاں گلناز کو پسند ہے خریدا گیا ۔اور گلناز کو فون بھی کر دیا کہ کچھ ہی دیر میں تمہارے گھر پہنچ رہا ہوں ۔
        ادھر سامان کسی اور کے ہاتھ ملنے سے بیوی کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا اب کیا کرے پیاری بیوی نے آخری چال چلی اور اپنے شوہر کو فون کیا اجی اپ کہاں رہ گئے ۔میں گلناز کے گھر ہوتا ہوا آونگا۔تم کھانا کھا لینا ۔لیکن کھانا کھاونگی تب نا جب میری طبیعت صحیح ہوگی۔پچھلے آدھا گھنٹہ سے میرے پیٹ میں کافی درد ہو رہا ہے ۔شوہر کا پیار دوبارہ امڈ پڑا۔کہنے لگا اچھا میں ڈاکٹر بھیجتا ہوں یا ابو کو بولتا ہوں وہ ڈاکٹر بلا لائیں گے ۔نہیں نہیں ڈاکٹر بلانے کی ضرورت نہیں آپ جلدی گھر آجائیں میرے پیٹ میں  کافی درد ہو رہا ہے۔
         دوست نے آو دیکھا نا تاؤ بائک اٹھایا اور گھر آگیا ابھی دروازہ پر ہی تھا کہ گلناز انتظار کرتے کرتے کال کردی۔کہاں ہیں بھائ جان کہاں تک پہنچے ۔فرمانبردار  شوہر دائیں ہاتھ سے بائک کی چابی  نکالتے ہوئے کہا گلناز تمہاری بھابی کے پیٹ میں کافی درد ہو رہا ہے اس وجہ سے میں گھر آگیا ہوں پھر کبھی تم سے ملنے آتا ہوں۔
     گلناز بے چاری زار و قطار رونے لگی انکو اپنی بھابی کے بارے میں پتہ تھا۔بلکہ ایک بار گلناز میکے آئ ہوئ تھی اور جھاڑو لگاتے ہوئے اپنے بھائ کے کمرہ کے کھڑکی کے پاس سے گزر رہی تھی گلناز نے سنا کہ بھابی اپنی چھوٹی بہن سے بات کر رہی ہے اور کہ رہی ہے میرا شوہر بس میرا ہے اور وہ مجھے اتنا چاہتا ہیکہ میں جوبولونگی وہ وہی کریگا۔گلناز آج وہ بات اپنے بھائ کے سامنے  دہرا دینا چاہ رہی تھی تاکے بھائ کو بھی حقیقت پتہ چل جائے۔ بلکہ بول بھی پڑی بھیا اپ آہی جاتے بھابی تو۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن گلناز نے اپنے آپکو روکا اور آنکھ سے آنسو پوچھتے ہوئے کال ڈسکنیکٹ کردی ۔گلناز کے آنکھوں میں آنسو دیکھر بچے بھی رونے لگے ہر طرف ایک مایوسی چھاگئ ۔۔
        ادھر میرا دوست جیسے ہی اپنے گھر کے صدر دروازہ پر  بائک سے ہارن کی آواز دی بیوی نے خوشی خوشی آکر دروازہ کھولا۔وہیں پر اپنے شوہر کے پیشانی کو چوما اور پیار سے اپنے بیڈروم کے طرف لے گئ۔میرے بھولے دوست نے اپنی اہلیہ سے پوچھا تمہارے پیٹ کا درد کہ پڑی جانوں آپکو دیکھر میری ہر بیماری ختم ہوجاتی ہے ۔اور کھینچ کر اپنے بستر پر لگائے دسترخوان پر رکھے بریانی کو اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے شوہر کو کھلانا شروع کر دی۔     
     میرے دوست نے اپنی محبوب بیوی سے پوچھا تھوڑی بریانی ابو اور امی کو بھی دے آئ تھی یا نہیں ۔کہ پڑی جانوں امی ابو گھر کا بنا ہوا کھانا ہی کھاچکے ہیں اب پھر کبھی لاکر امی ابو کر کھلا دونگی۔
       ہم دونوں دوست چائے کی چسکی لے رہے تھے اور بات کئے جارہے تھے ۔پھر سے میرے دوست نے کہا یار فیروز قسم سے میری بیوی مجھے بہت محبت کرتی ہے بےانتہا چاہتی ہے پتہ نہیں یار  میرے ملک سے باہر جانے کے بعد کیسے اکیلے رہ لیتی ہے ۔۔
    مجھے غصہ آگیا اور میں کہ پڑا دھتےریکی سالا کس کی بیوی اپنے شوہر سے پیار نہیں کرتی یار۔۔ بیوی اگر اپنے شوہر سے ہی پیار نہیں کریگی تو کیا پڑوس کے لڑکوں سے پیار کریگی ۔۔
                                (  فیروز ہارونی)