Monday, December 3, 2018

دھت تریکی ۔۔۔

                       ۔۔۔۔ دھت تیری کی۔۔۔۔

        بھائ صاحب دوست کا پیار دیکھئے  مجھ سے نہیں بلکہ اپنی بیوی سے ۔میرا پیارا دوست ملک سے باہر رہتا ہے ۔آج اسی کی شامت آئ ہے پورے طور پر آج اسی کی بات ہو رہی ہے۔
    جب سے کنسٹی ٹیوشن میں آرٹیکل 377 کو منظوری ملی ہے تب سے کسی ہم جنس دوست کو پیار کی بات یا پھر بہت پیار کرتا ہوں یا لو یو بول دیتا ہوں۔تو کئ لوگ ترچھی نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں ۔شاید ویسے لوگ یہ سوچتے ہونگے کہ یہ لوگ بھی پھکیت لوگ ہی ہیں جو اپنے ہی جنس سے اپنی ساری خوہشات پوری کرتے ہیں ۔میرے ایک دوست ایسے ہی ہیں جو میرے دل کے بہت ہی قریب ہے۔لیکن ویسا والا نہیں بلکہ دینی دوست ہے ۔نام  نہیں لکھ سکتا سالابگڑ جائگا۔آپ لوگ پڑھئے اور بتائے صحیح کیا ہے۔ بیوی کے پیار میں ایسی کیا مجبوری ۔نابھائ نا یہ سب تو کچھ زیادہ ہی ہے۔
        ابھی کل کی بات ہے دونوں دوست شام میں بیٹھکر چائے پی رہا تھا۔باتوں ہی باتوں میں مجھ سے کہنے لگا بھائ فیروز کیا بتاؤں میری اہلیہ مجھے بے انتہا چاہتی ہے بہت زیادہ بس یہ سمجھ لو کہ مجھے وہ اپنے بیڈ روم سے باہر نکلنے دینا ہی نہیں چاہتی۔ہمیشہ اپنے پاس رکھ کر بات کرنا ہنس ہنس کر سوال کرنا اور کھل کھلا کر جواب دینا بیوی کے دن بھر کا مشغلہ رہتا ہے ۔اس چکر میں کئ بار تو میں نماز میں بھی دیر ہوجاتا ہوں ۔لیکن کیا کروں یہ سب بیوی کا پیار ہے انکار نہیں کر سکتا آخر میں بھی تو انسان ہوں  بیوی کے جزبات کو سمجھ سکتا ہوں۔
       بقول انہی کہ کہ بیوی کے پیار کا یہ عالم ہے کہ گھر آنے کے بعد نہ کسی دوست کا فون رسیو کر پاتا ہوں اور ناہی گاوں سماج کے لوگوں سے ملاقات کر کچھ دین دینا کی باتیں کر پاتا ہوں ۔کچھ دیر کے لئے گھر سے نکلہ بس بیوی کا کال آ دھمکا۔کہاں ہیں آپ ،میں کب سے آپکا انتظار کر رہی ہوں، کب تک واپس آنا ہے ،اپ کو تو میری فکر ہی نہیں ہے ۔اپ بس چند دن کے مہمان ہیں اپ ادھر ادھر گھومتے رہیئے مجھے بلکل یہ سب اچھا نہیں لگتا ہے۔یار فیروز قسم سے میری بیوی مجھے بہت چاہتی ہے بے انتہا مجھ سے محبت کرتی ہے ۔
       اور تو اور میرے دوست کے بیوی کے چاہت کا یہ عالم ہے کہ انکو پچھلے ہفتہ بینک جانا تھا۔دوست کا گھر شہر سے تھوڑا دور ہے اس وجہ سے انہوں نے سوچا کے بینک کا کام جلدی جلدی کرکے اپنی چھوٹی بہن کا گھر بھی چلا جائیگا۔تاکہ ایک دن میں ہی دونوں کام ہوجائے۔
     آخر گھر آئے ایک مہنہ بھی تو ہو گیا ہے لیکن ابھی تک کسی بہن سے ملاقات نہیں ہو پائ ہے۔دوست نے اس دن سوچاتھا  کہ آج بہن سے ملاقات ہو جائے گی ۔بقول دوست کے میری اہلیہ نہانے باتھ روم گئی ہوئ تھی۔مجھے معلوم تھا بیوی کو بہن کا گھر جانا اچھا نہیں لگے گا اسلئے سوچا بیوی نہیں ہے بہن کو جلدی فون کرکے بتادوں کہ دوپہر میں تم سے ملنے آرہا ہوں ۔۔
          بستر پر لیٹے لیٹے دروازے کے جانب سر اور پیر کو پلنگ کے اوپر سے دیوار پر ٹکائے اپنے بہن کو فون کیا ۔ہیلو گلناز کیسی ہو اور کیا کر رہی ہو۔کچھ نہیں بھیا بس نہانے جارہی ہوں۔اتنی جلدی ابھی تو بس گیارہ ہی بجے ہیں ۔ہاں بھیا سوچ رہی ہوں تھوڑی جلدی نہالوں تاکے وقت پر نماز پڑھ پاؤں۔اچھا سنو میں آج تم سے ملنے آرہا ہوں ۔     
        سچ میں کتنی اچھی بات ہے بھابی کو بھی ساتھ میں لا رہے ہیں نا ۔نہیں تمہاری بھابی پھر کبھی آئے گی ۔آج میں اکیلے ہی  آرہا ہوں۔ٹھیک  ہے بھائ جان ضرور آئے ۔
    ابھی یہ سب باتیں ہو ہی رہی تھی کہ اہلیہ محترمہ دروازے کے سائڈ کھڑی سب کچھ آرام سے سن لی۔لیکن بڑی چالاکی سے جب دیکھی کہ اب ساری باتیں ختم ہوگئ ہے تو کچھ سکنڈ بعد کنرہ کے اندر آئ ۔اور کہنے لگی اچھا تومیاں یہ پیر نیچے بھی کر لیجئے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ سر میں خون جمع ہو جائے اور سر چکرانے لگے ۔
      ارے تم آگئ ٹھیک ہے سنو میرے لئے استری کیا ہوا ایک جوڑی کپڑا نکال لاؤ مجھے بینک کے کام سے بازار جانے ہیں ۔۔بیوی کہ پڑی تو اس میں آپکو استری کئے ہوئے  کپڑے کی کیا ضرورت پڑ گئ جو پہنے ہیں اسی کپڑے میں چلے جائے ۔اور ہاں جلدی واپس آجائے گا پھر کہ پڑی اچھا کتنا وقت لگے گا آپکو بینک میں ۔بس یہی کچھ ایک گھنٹہ۔ٹھیک ہے تو آپ جائے ابھی گیارہ بج رہا ہے بارہ  ساڑھے بارہ بجے تک واپس گھر آجانا چاہیے اور گھر آکر ہی کھانا کھائیے گا۔ٹھیک ہے دیکھتا ہوں۔دیکھئے مجھے تو آپکو ایک منٹ کے لئے بھی باہر بھیجنے  کا من نہیں کرتا ہے بس بینک کا کام ہے اس وجہ سے کچھ کہ نہیں سکتی۔اچھا خیر میں آجاونگا ۔تم کپڑا نکالو تو صحیح۔دوست کی بیوی نے طوعاوکرہا پرانا سا ایک کپڑے کا جوڑا جو نہ جانے کب سے پریس کرکے رکھا ہوا تھا نکال کر دے دیا ۔
     یار وہ والا کپڑا نکال دو نا جو پچھلے ہفتہ جمعرات کو پہن کے سسرال گیاہوا تھا ۔نہیں اس میں ابھی تک استری نہیں ہوئ ہے ایسے ہی رکھا ہوا ہے۔اسے ہی پہن لیں ۔جلدی جائیں آپ لیٹ ہو رہے ہیں ۔اچھا خیر  اسکو رہنے دو وہ والا کپڑا نکال دو جسکو پہن کر پرسوں تمہاری چھوٹی بہن کے گھر گیا ہوا تھا ۔وہ بھی ابھی صاف نہیں ہوا ہے ۔کہاں یار مجھے النا میں بغیر صاف کیا ہوا کوئ کپڑا تو دیکھ نہیں رہاہے ۔اچھا ایسا کرو اس پرانے کپڑے کے بجائے مجھے وہ والا کرتا پاجامہ دیدو جو بڑی باجی نے دی تھی۔
    جانوں آپ اسی کو پہن لیجئے نا بینک ہی تو جارہے ہیں اب کوئ رشتہ لیکر اپ کے لئے نہیں آرہا ہے جو اتنا سجا دھجا جائے۔مرتا کیا نہ کرتا میرے دوست نے اسی پرانے کپڑے کو پہن لیا جبکہ سارے کپڑے پریس کرکے الماری کے اندر رکھے ہوئے تھے۔
       ادھر گلناز  کا خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا ۔جیسے ہی بھائ کا کال آیا۔ اپنے شوہر کو فون کی۔اجی میرے بھائ جان آرہے ہیں جلدی سے کچھ مٹھائ اور کچھ اسپیشل سالن لے آئے ۔اور ہاں بہت دنوں کے بعد آرہے ہیں اس وجہ سے مٹن ہی لے آئیں تو بہتر ہوگا۔کچھ اچھی مٹھائ بھی بھائ جان کے لئے لیتے آئے گا ۔بھائ جان کو گاجر کا ہلوا ، برفی اور  رسملائ  بہت پسند ہے اس لئے پلیز یہ تینوں چیز یں ضرور لیتے آئیگا۔اچھا ٹھیک ہے میں کچھ دیر میں لیکر آتا ہوں ۔دونوں شوہر بیوی نے ہنستے مسکراتے بھائ کے مہمان نوازی کا انتظام کرنے لگا ۔
     میرے  دوست نے اسی کپڑا کو پہن لیا لیکن پھر سے جوتے میں اختلاف ہو گیا بیوی کہ رہی تھی باہر سینڈل ہے اسی کو پہن کر چلے جائے اور اور شوہر کی خواہش تھی کہ کل جو نیا جوتا بازار سے  لایا ہوں اسی کو پہن کر بہن کے گھر جانا ہے تاکے بہن دیکھکر خوش ہوجائے۔لیکن پیاری بیوی کو یہ سب راس نہیں آیا انہوں نے اسی کپڑے اور سینڈل میں اپنے شوہر کو باہر بھیج دیا یہ کہ کر کے آخر بینک ہی تو جانا ہے۔
         دوست کے گھر سے نکلنے اور بینک پہنچنے تک میں لگ بھگ تین چار دفعہ انکی اہلیہ نے اپنے شوہر کو فون کرکے  پوچھ بھی لیا کہاں تک پہنچے۔ آہستہ آہستہ سے جائیے،اپنا خیال کرکے بائک کو صحیح سمت چلائے اور سنئے بائک کواسٹینڈ پر لگا کر ہی بینک کے اندر جائیگا وغیرہ وغیرہ ۔
        جب اس بات کی تصدیق ہو گئ کہ شوہر صاحب اب بینک کے اندر چلے گئے تو بیوی صاحبہ نے اپنا بال کھولا بال کو سکھایا اور بال میں تیل لگائ۔کنگھی وغیرہ سے فارغ ہوکر دوبارہ اپنے پیارے شوہر کو فون کی ۔کہاں ہیں جی ۔ارے یار بس بینک سے نکلہ ہوں اب بائک کے طرف جا رہاہوں۔
     اچھا سنیے پلیز میرا ایک کام کرتے آئیے۔کیا کام ہے ۔آج امی نے جو کھانا بنایا ہے وہ کھانا اچھا نہیں ہےآپ کچھ کھانا پیاک کراکے گھر لے آئیے۔ بلکہ ایسا کریں کہ ایک کیلو بریانی ہی پیک کرا لیجئیگا تو بہتر ہوگا ۔اور اس دوڑائ کے دکان پر نیبھیا کا کولڈ کریم نہیں ملا تھا آج وہ بھی لے لیجئیگا ۔جلدی آئے میں آپکا انتظار کر رہی ہوں اپ آئیں گے تبھی میں کھانا کھاونگی ۔مجھے بہت تیز بھوک لگی ہے۔لیکن آپکو تو پتہ ہی ہے آپکو چھوڑکر میں اکیلے کھانا کھا نہیںسکتی ۔
         ادھر گلناز پھولے نا سمائے جلدی جلدی اپنے بیٹا بیٹی کو  نہلا دھلا کر تیار کردی۔ماما کا نام سنکر ویسے بھی بچوں کے خوشی کا ٹھکانا نہیں رہتا ہے اسلئے بچے بھی پورے گھر میں ہنگامہ شروع کر دیئے ماما آرہے ہیں  ماما آرہے ہیں ۔
        دیکھتے ہی دیکھتے  ایک بجے تک کھانا بھی تیار ہوگیا اب بس بھائ کے فون کا انتظار تھا۔ایک بار گلناز کے شوہر نے کہا بھی کہ میں بھیا کو کال کر لیتا ہوں لیکن گلناز نے کہا کے بھائ جان کچھ دیر میں ہی پہنچ جائیں گے۔فون کرنے کی کیا ضرورت ہے۔   
      ادھر شوہر کا پیار دیکھئے جیسے ہی بیوی کی فرمائش بریانی اور کریم کی سنی تو سکپکا سا گیا اور بیوی سے کہنے لگا ۔یار میں سوچ رہاہوں کہ ادھر سے گلناز سے ملاقات کرتا  چلو ۔گاوں آئے ایک مہنہ سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا ہے لیکن ابھی تک ایک بار بھی گلناز سے ملاقات نہیں ہو پائ ہے ۔بیوی کہ پڑی اچھا ٹھیک ہے پھر کبھی چلا جائیگا اپنی بہن سے ملنے آج واپس گھر آجائے میں آج آپکے ساتھ ہی کھانا کھاونگی۔
     دوست نے کچھ دیر سوچا بیوی نے اس انداز سے بات کی کہ انکا دل بھر آیا سوچا واقعی بیوی کو بریانی کھلانا چاہیے سوچا کسی دوست کے ہاتھ بریانی بھیج دیتا ہوں۔انہوں نے اپنے کئ دوستوں کو فون کیا ایک دوست بازار ہی میں تھا۔ شوہر نے ایک کیلو بریانی اور کریم خرید کر اپنے چہتی اہلیہ کے لئے گھر بھیج دیا۔آدھے گھنٹے  میں بریانی گھر پہنچ گئ ۔جب سامان کا بیگ اہلیہ محترمہ کے ہاتھ میں گیا تو وہ اس اردے سے پوچھ بیٹھی کہ شوہر بھی پیچھے ہی ہونگے ۔آپکے دوست کہاں ہیں۔انہوں نے کہاابھی بازار میں ہی ہیں کچھ دیر کے بعد آئیں گے ۔اچھا ٹھیک ہے۔
        میرے دوست نے بہن کے گھر جانے کے لئے دو تین طرح کی مٹھائ خریدیخاصکر کرجو جو مٹھائیاں گلناز کو پسند ہے خریدا گیا ۔اور گلناز کو فون بھی کر دیا کہ کچھ ہی دیر میں تمہارے گھر پہنچ رہا ہوں ۔
        ادھر سامان کسی اور کے ہاتھ ملنے سے بیوی کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا اب کیا کرے پیاری بیوی نے آخری چال چلی اور اپنے شوہر کو فون کیا اجی اپ کہاں رہ گئے ۔میں گلناز کے گھر ہوتا ہوا آونگا۔تم کھانا کھا لینا ۔لیکن کھانا کھاونگی تب نا جب میری طبیعت صحیح ہوگی۔پچھلے آدھا گھنٹہ سے میرے پیٹ میں کافی درد ہو رہا ہے ۔شوہر کا پیار دوبارہ امڈ پڑا۔کہنے لگا اچھا میں ڈاکٹر بھیجتا ہوں یا ابو کو بولتا ہوں وہ ڈاکٹر بلا لائیں گے ۔نہیں نہیں ڈاکٹر بلانے کی ضرورت نہیں آپ جلدی گھر آجائیں میرے پیٹ میں  کافی درد ہو رہا ہے۔
         دوست نے آو دیکھا نا تاؤ بائک اٹھایا اور گھر آگیا ابھی دروازہ پر ہی تھا کہ گلناز انتظار کرتے کرتے کال کردی۔کہاں ہیں بھائ جان کہاں تک پہنچے ۔فرمانبردار  شوہر دائیں ہاتھ سے بائک کی چابی  نکالتے ہوئے کہا گلناز تمہاری بھابی کے پیٹ میں کافی درد ہو رہا ہے اس وجہ سے میں گھر آگیا ہوں پھر کبھی تم سے ملنے آتا ہوں۔
     گلناز بے چاری زار و قطار رونے لگی انکو اپنی بھابی کے بارے میں پتہ تھا۔بلکہ ایک بار گلناز میکے آئ ہوئ تھی اور جھاڑو لگاتے ہوئے اپنے بھائ کے کمرہ کے کھڑکی کے پاس سے گزر رہی تھی گلناز نے سنا کہ بھابی اپنی چھوٹی بہن سے بات کر رہی ہے اور کہ رہی ہے میرا شوہر بس میرا ہے اور وہ مجھے اتنا چاہتا ہیکہ میں جوبولونگی وہ وہی کریگا۔گلناز آج وہ بات اپنے بھائ کے سامنے  دہرا دینا چاہ رہی تھی تاکے بھائ کو بھی حقیقت پتہ چل جائے۔ بلکہ بول بھی پڑی بھیا اپ آہی جاتے بھابی تو۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن گلناز نے اپنے آپکو روکا اور آنکھ سے آنسو پوچھتے ہوئے کال ڈسکنیکٹ کردی ۔گلناز کے آنکھوں میں آنسو دیکھر بچے بھی رونے لگے ہر طرف ایک مایوسی چھاگئ ۔۔
        ادھر میرا دوست جیسے ہی اپنے گھر کے صدر دروازہ پر  بائک سے ہارن کی آواز دی بیوی نے خوشی خوشی آکر دروازہ کھولا۔وہیں پر اپنے شوہر کے پیشانی کو چوما اور پیار سے اپنے بیڈروم کے طرف لے گئ۔میرے بھولے دوست نے اپنی اہلیہ سے پوچھا تمہارے پیٹ کا درد کہ پڑی جانوں آپکو دیکھر میری ہر بیماری ختم ہوجاتی ہے ۔اور کھینچ کر اپنے بستر پر لگائے دسترخوان پر رکھے بریانی کو اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے شوہر کو کھلانا شروع کر دی۔     
     میرے دوست نے اپنی محبوب بیوی سے پوچھا تھوڑی بریانی ابو اور امی کو بھی دے آئ تھی یا نہیں ۔کہ پڑی جانوں امی ابو گھر کا بنا ہوا کھانا ہی کھاچکے ہیں اب پھر کبھی لاکر امی ابو کر کھلا دونگی۔
       ہم دونوں دوست چائے کی چسکی لے رہے تھے اور بات کئے جارہے تھے ۔پھر سے میرے دوست نے کہا یار فیروز قسم سے میری بیوی مجھے بہت محبت کرتی ہے بےانتہا چاہتی ہے پتہ نہیں یار  میرے ملک سے باہر جانے کے بعد کیسے اکیلے رہ لیتی ہے ۔۔
    مجھے غصہ آگیا اور میں کہ پڑا دھتےریکی سالا کس کی بیوی اپنے شوہر سے پیار نہیں کرتی یار۔۔ بیوی اگر اپنے شوہر سے ہی پیار نہیں کریگی تو کیا پڑوس کے لڑکوں سے پیار کریگی ۔۔
                                (  فیروز ہارونی) 

Monday, January 25, 2016

یوم جمہوریہ کل اور آج

.......یوم جمہوریہ کل اور آج ......

میں اپنی بات براق اوباما کے اس قول سے شروع کر رہا ہوں جو چیف گیسٹ کی حیثیت سے66واں جشنِ یوم جمہوریہ 26 جنوری 2015 کے موقع پر ہندوستان میں عوامی ہجوم کے سامنے  انڈیا گیٹ سے کہا تھا کہ
"ملک ہندوستان کو  ذات پات اور فرقہ وارانہ سیاست کو چھوڑ دینا چاہیے تبھی وہ ترقی کے  اونچے چوٹی کو سیر کر سکتی ہے " 
امسال 67 واں یوم جمہوریہ میں مودی سرکار نے چیف گیسٹ کی حیثیت سے فرنچ  صدر فرانکوئس ہولانڈ کو مدعو کیا ہے. خیر قبل از وقت صدر صاحب  کے لیکچر پر قیاس آرائی کر نا  مناسب نہیں ہوگا کیونکہ ہولاند نے جو بھی محسوس کیا ہوگا وہ 26 جنوری کو پتہ چل ہی جائے گا کہ ان کے نظر میں ملک ہندوستان کس سمت کو جا رہی ھے اور کدھر جانا چاہیے. 
       باوجود ان باتوں کے یوم جمہوریہ ہم ہندوستانییوں کے لیے ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے . کیونکہ یہ بات مسلمہ حقیقت ہیکہ ہندوستان کو انگریزوں کے ظلم و استبداد سے 15 اگست 1947 کو آزادی مل گئ تھی مگر پھر بھی آزادی عارضی آزادی تھی .لوگوں کو آزاد ہندوستان میں ان کے حقوق کے تحفظ اور ان کے حقوق کے بارے میں کوئ حتمی جانکاری نھیں تھی. ان باتوں کو صحیح سے سمجھنے کے لئے ہمیں ذرا اس  تاریخی حقیقت کے پس منظر کو پڑھنے کی ضرورت ہے.دراصل 1945 میں جب دوسری جنگ عظیم ہوئ اسوقت انگلینڈ میں بیک وقت دو مسئلہ درپیش آیا ایک تو دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے ملک برطانیہ معاشی اعتبار سےکافی کمزور ہو گئی تھی اور دوسری بات یہ ہوئ کہ 1945 ہی میں لیبر پارٹی نے برطانیہ میں الیکشن جیت لیا تھا.جسکا سیدہا اثر سالوں سے آزادی کے لیے اپنی جان کی قربانی دینے والے ہندوستانی مجاہدین کو بھی ہوئ ان کے اندر لیبر پارٹی کے جیتنے سے ایک جوش و جزبہ کا طوفان بہنے لگا  کہ اب بہت جلد ہندوستانییوں کو بھی انگیزوں سے مکمل آزادی مل جائے گی.چنانچہ 1945 میں ایسا ہی ہوا کہ لارڈ ڈاول نے ہندوستانی مجاہدینوں سے رابط کرنا شروع کیا  کہ اب طاقت کو ہندوستان کے حوالے کر دیا جانا چاہئے اور اسی مناسبت ہی سے فروری 1947ء میں لارڈ ماونٹ بٹن کو ملک ہندوستان کا آخری وائسرائے  بنا یا گیا اور اس سے اس بات کی فرمائش بھی ہوئ کہ وہ ہندوستانی لیڈران سے ملکر ایک خودمختار مثالی اور متحد ہندوستان کا قیام عمل میں لانے میں ہندوستانیوں کا  بھر پور مدد کرے.لارڈ ماونٹ بٹن نے اعلان بھی کیا کہ جون 1948 تک ہندوستان کو مکمل طور پر ہندوستانییوں کے حوالے کر دیا جائے گا.ساتھ ساتھ انہونے اپنے طور پر نہرو جناح وغیرہ لیڈران سے رابطہ شروع کر دی مگر شوم قسمت دیکھئے کہ سیاسی ناچاقی اور انا نیت کے بناپر  قبل از وقت  1947 ہی میں ہندوستان کو قتل کر کے اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا  اور  1947 میں ایک نیا ملک پاکستان کا قیام عمل میں آیا.
خیر باقی کی باتوں کو جانے دیجئے  کیونکہ فسادات 1947 پر مزید گفتگو پندرہ اگست کے موقع پر ہوگی.اب بس اتنا پڑھ لیجئے کہ ملک کے تقسیم ہونے کے بعد ہندوستان بھر میں ایک سقوط سا چھا گیا. لوگوں میں اب خوف و حراس جیسا ماحول پنپنے لگا،اقلیت اور اکثریت کا سنگین مسئلہ سر اٹھانے لگا، لوگوں کو اپنی عزت و آبرو کی فکر دامنگیر ہونے لگی،ایسے نازک اور پرخطر دور میں سب سے زیادہ  اگر کسی چیز کی ضرورت تھی تو ایک دستور کی ایک آئین کی ایک قاعدے کی ایک مستحکم اور خود مختار قانون کی.جس میں اس بات کا ذکر ہو کہ اکثریت کے بیچ میں اقلیت کیسے رہ سکتی ہے.کیونکہ ہندوستان بھر میں اتنے زیادہ مذاہب تھے کہ اسکی حفاظت کیسے کی جائے یہ ایک بہت بڑا سنگین مسئلہ تھا، مالدار  اور غریب میں فرق، اونچ ذاتی اور  نیچ ذاتی میں کیسے صلح مشورہ کرایا جائے کیسے سبکو ایک ساتھ ایک ملک ایک سماج میں رکھا جائے اسکا فکر ہمارے  تمام  مدبران اور لیڈران کو دامنگیر ہونے لگی. 1947 کے بعد سب سے بڑا مسئلہ جو درپیش آیا وہ یہ تھا کہ اب تک ہندوستان میں عوامی حکومت کبھی قائم نہیں ہوئ تھی،اس سے پہلے جو حکومتیں آئیں وہ یاتو راجا مہاراجاووں کی حکومت تھی جو ملک کے ہر کونے میں الگ الگ حکومت حکومت قائم کر رکھی تھی. یا پھر ترک مسلمانوں نے ہندوستان پر حکومت کی ان میں بھی کسی نے بھی بیک وقت  پورے ہندوستان پر حکومت نہیں کی کسی نے اکیلے صرف مالوہ پر کسی نے افغانستان پر کسی نے صرف دہلی پر اور کسی نے حیدرآباد وغیرہ وغیرہ پر منفرد حکومت قائم کی. بالآخر ایک مغلیہ سلطنت ہی ایسی تھی جسکا انتظام و انصرام پورے ملک بھر میں قائم تھا.لیکن اب حالات دوسرے تھے اسوقت مغلیہ سلطنت میں اقلیت اور اکثریت کا مسئلہ نہیں تھا انہے جو قاعدے قانون  اچھا لگا اپنے لئے اور عوام کے لئے اچھا سمجھا بادشاہ وقت نے  عوام پر صادر کر دیا نا عام عوام کی اس میں دخل اندازی ہوتی اور نہ عام لوگ دخل دینا ہی چاہتے تھے. اسلئے موجودہ ہندوستان میں  اسکو  قانون کو بھی 1947 کے بعد عوام پر لاگو نہیں کیا جا سکتا تھا. إن سارے مسائل سے ہمارے لیڈران اور مدبران بہت زیادہ ششدر و پریشان تھے. انہی مسائل کے مد نظر 1946  میں ایک کیبینٹ مشن اور پھر کنسٹی یٹوشن اسمبلی بنایا گیا جس میں نہرو، مولانا آزاد ،امبیڈکر، پٹیل راجندر پرساد وغیرہ لوگوں کو شامل کیا گیا تاکے ایک سیکولر اور خود مختار آئین بنکر تیار ہو جائے چنانچہ کنسٹی یٹوشن اسمبلی کی پیلی مٹنگ 19 دسمبر 1946 کو ہوئ اور باضابطہ طور پر اس مٹنگ میں تمام  اقلیت اکثریت مختلف علاقوں مقامات ذات پات  امیر غریب  مختلف مذاہب تجارت اور معاشیت کا خیال رکھا گیا. مسلسل چار سال تک یہ اسمبلی چلی جس کے لئے ایک کروڑ روپے کا بجٹ بھی  تعین کیا گیا  تھا.کل 11 مٹینگیں عمل میں آئیں اور بلا آخری  26 نومبر 1949 کو آخری مٹنگ کے ساتھ اختتام عمل میں آیا. 
قارئین! آپ کے فائدے کے لیے بتادوں کے 29 اگست 1947 کو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے صدارت میں ایک ڈرافٹنگ کمیٹی بنائ گئ جس کے ساتھ سوامی ایر، مولانا ابوالکلام آزاد ،پنڈت نہرو ،بلبھ بھائ پٹیل، سید محمد،سعد اللہ ایم منشی،راجندر پرساد وغیرہ مدبران شامل تھے ان ہی لوگوں کے ان تھک محنت لگن اور کوششوں سے ایک فیصلہ کن اور  مستحکم و مضبوط دستور عمل  عمل میں آیا جسکا اختتام  24 جنوری 1950 کو ہوا اور 26 جنوری 1950 کو اس   کنسٹی یٹوشن کو پورے ہندوستان میں لاگو کیا گیا.ہمارے کنسٹی یٹوشن کو بنانے میں کل دو سال گیارہ مہینہ اور  اٹھارہ دن لگے .مزید بتا دوں کے اس لائحہ عمل کو تیار کرنے میں مختلف ممالک کے دستوروں اور کنسٹی یٹوشنوں سے فائدے لئے گئے تاکے ایک سیکولر اور جمہوری آئین بنکر تیار ہو جائے جس میں ایک ایک شہری کا خیال ہو جس میں ہر طبقہ اور ہر ذات کا بھر پور خیال رکھا گیا ہو چنانچہ ملک ہندوستان کے کنسٹی یٹوشن کو تیار کرنے میں مختلف ممالک کے کنسٹی یٹوشن سے مدد لی گئی ہیں جن میں بریٹش کنسٹی یٹوشن، یونائیٹیڈ اسٹیٹ کنسٹی یٹوشن، آئرش کنسٹی یٹوشن، آسٹریلیا کے کنسٹی یٹوشن، فرانس کے کنسٹی یٹوشن، کینیڈا کے کنسٹی یٹوشن اور سویت یونین کے کنسٹی یٹوشن سے اور ایمرجنسی کے بارے میں جرمنی کے کنسٹی یٹوشن سے مدد لیا گیا ہے.اسطرح سے ایک مکمل نظام ہند یا دستور ہند کا ہیولی بن کے تیار ہوا ہے .جس کو 26 جنوری 1950 میں پورے ملک بھر میں لاگو کر دیا گیا. اسلئے وہ تمام کے  تمام مدبران مبارک بادی کے قابل ہیں جنہوں نے اس ڈرافٹنگ کمیٹی کو کامیاب بنانے میں مدد کی بسااوقت ہم اس جشن میں ڈاکٹر امبیڈکر کا نام لیکر جلدی بازی سے آگے نکل جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کے اس دستور ہند کو بنانے میں امبیڈکر کے ساتھ وہ لوگ بھی برابر کے داد کے مستحق ہیں جنہوں نے دن رات کی انتھک کوششوں اور محنتوں  سے دستور ہند کو پائہ تکمیل تک پہنچایا اور اسے ملک میں نافذ کیا  ورنہ ملک ہندوستان کی آزادی آدھی آدھوری آزادی بن کے رہ جاتی اور لوگوں میں قتل و غارت کا ایک لا متناہی سلسلہ چلتا رہتا. 
  اس سال جو ہم لوگ 67واں جشن یوم جمہوریہ منانے جا رہے ہیں وہ 26 جنوری 1950کی یاد کو تازہ  کرنے جا رہے ہیکہ پچھلے 66 سال سے ملک ہندوستان میں دستور ہند کا نفاذ عمل میں آرہا ہے. اسپر عمل پیرا ہوکر ہندوستان ترقی پذیر ممالک کے فہرست میں سب سے اوپر ہے اور 67واں سال بھی ہندوستاں آگے بڈھتی ہی رہے گی.
اب آئے میں اپنی بات کیطرف واپس چلتا ہوں کہ پچھلے سال صدر اوباما آئے تھے اور اس سال فرانس کے صدر ہولانڈ تشریف لا رہے ہیں. در اصل یہ کوئ بڑی حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ صدر صاحب آئیں گے اور ایک دو دن میں مہمان نوازی کر کے  واپس بھی چلے جائیں گے. لیکن  سوال یہ ہیکہ کیا اس سے ہمارا جو دستور ہے اس میں کوئ فرق پڑیگا کیونکہ یہ تلخ حقیقت ہیکہ ابھی تک ہمارے ملک میں دستور یا کنسٹی یٹوشن کا مکمل نفاظ عمل میں نھیں آیا ہے اور اگر آیا  بھی ہے تو  تمام کے تمام لوگوں کو ابھی تک اس کا مکمل فائدہ نھیں پہنچا ہے. اور اب بھی ہندوستان میں ذات پات اور کاسٹسزم پر وٹنگ ہوتی ہے اب بھی مذہب کے نام پر دنگے ہو تے جا رہے ہیں. پھر ہم کسی سیکولر ملک کے پریسیڈنٹ کو بلاکر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ کہ ہمارا ملک اب سیکولر ملک بن چکا ہے ؟یا یہ ثابت کر نا چاہتے ہیں کہ ہمارا اٹھنا بیٹھنا بڑے بڑے سپر پاور ممالک کے سربراہان سے ہے؟ یا ہندوستان کا شمار اب سپر پاور ممالک کے فہرست میں ہونی چاہیے؟ اگر ایسا ہے تو  موجودہ سرکار کو شرم کرنی چاہیے کیونکہ ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں 80 پر تیشت لوگ  اب بھی جمہوریت چاہتے ہیں مگر سیاسی لیڈران انہی الیکش کے وقت بھڑ کا کر کاسٹسزم کے ذریعہ الیکشن جیتنے کی ناکام کوشش کر تے ہیں اور بسا اوقات بعض پارٹیاں الیکش جیت بھی جاتی ہے.پھر ان سیکولر ملک کے صدر کو بلا کر کیا باور کرانا چاہتے ہیں.؟
میں 1995 کی بات بتا رہاہوں جب یوم جمہوریہ کے موقع پر نیلسن منڈیلا کو دعوت دی گئی تھی اور لوگوں کے سامنے ان کی قربانی کو یاد کی گیا تھا کہ کسطرح سے اسنے اپنی پوری ذندگی کو  گورا کالا کے فرق کو مٹانے کے لیے قربان کر دیا اس کو مدعو کرنے کا ایک مقصد تھا. منڈیلا جیسے لیڈر کے آنے سے ہندوستان کے عوام میں  اور یہاں کے لیڈروں میں ایک جزبہ  پیدا ہوتا تھا کہ ہندوستان کو بھی ایک مکمل جمہوری ملک بننا چاپئے مذہب کے نام پر اور نسل کے نام پر جو عوام کو لڑا رہے ہیں ان عناصر کو ختم کیا جانا چاہئے . ایک دور تھا جب ملک ہندوستان مظلوم قوموں کے ساتھ کھڑی ہوتی تھی اور شوق سے فلسطینی صدر یاسر عرفات کو مدعو کیا جاتا تھا اسوقت ایسا لگتا تھا ہندوستان کے ساتھ  ان کے شانہ بشانہ بہت سے  ممالک ہیں جو مصیبت کے وقت ساتھ دے سکتے ہے مگر اب وہ زمانہ نہیں رہا اب تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کو  دیگر ممالک کے لیڈران اس وجہ سے پسند کرتے  ہیں کیونکہ یہاں آبادی زیادہ ہے یہاں ان ممالک کے کمپنیوں کو اچھی خاصی  کمائی ہو جایا کرتی ہے.وہ ہندوستان کو لوٹ کے لیجا رہے ہیں اور ہماری حکومت بجائے اپنے ملک کے کمپنیوں کو بڑھاوا دینے کے الٹے دوسرے ممالک کے کمپنیوں کو مراعات دے رہی ھے تاکہ وہ مزید ہندوستان کو کنگال کر دے.  
قارئین کسی بھی ملک کو ترقی کے لئے اول زینہ وہاں کے عوام ہوتے ہیں اگر عوام میں خوش حالی نہیں ہے تو وہ  ملک چاہے جتنا بھی مالدار کیوں نہ ہو جائے وہ کبھی خوش حال ملک نہیں بن سکتی .اولا ہمارے ملک کے ہر شاخ کو مضبوط کرنا پڑیگا اور ہر شاخ کو مضبوط کرنے کے لیے  ہمارے حکومت کو ملک کے بنیاد کو مضبوط کرنا پڑیگا .اور بنیاد مضبوط ہوگی عوام کے اتحاد و اتفاق سے آپس میں دوستی سے مختلف خانوں میں تقسیم ھو نے کے بجائے ایک پلیٹ فارم میں آنے سے جبھی تمام لوگ ملک کی فکر کرینگے اور ملک کو مضبوط اور طاقت ور ملک بنانے کی کوشش کر ینگے. یاد رکھئے آج ملک کی نا اتفاقی ہی ہیکہ ملک  کے اندر رہ کر لوگ دہشت گردوں کا ساتھ دینے لگتا ہے اور اس کا خمیازہ عام عام کو بھگتا پڑتا ہے اسلئے عوام کو اس بات کا احساس دلانا پڑیگا کہ جو انسانیت کا دشمن ہے وہ ملک کا بھی دشمن ہے اور جو ملک کا دشمن ہے وہ ہمارا اور ہندوستانیوں کا دشمن ہے اور ایسا تبھی ہوگا جب تمام لوگوں کو برابر کا حق دیا جائے .  مگر اللہ معاف کرے آج ملک کی حالات آئے دن خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں، مذہبی منافرت مذہبی مخالفت اور مذہب کے نام پر لوگوں میں زہر افشانی ہو رہی ھے اور ہماری حکومت بجائے ان چیزوں کے سدھارنے کے بس اس بات کا ڈنکا بجانے میں مصروف ہیکہ دنیا میں سب سے بڑا سیکولر ملک اگر کوئ ہے تو وہ ملک ہندوستان ہی ہے. بلکہ ہونا تو یہ تھا کہ حکومت اس بات کی کوشش کر تے کی  ملک ہندوستان میں اب بھی صد فیصد دستور ہند کی نفاذی نہیں ہوئ اسکو عمل میں لاتے اور کنسٹی یٹوشن کے عمل میں جو رکاوٹیں آرہی ہیں اسے دور کرتے. مگر باوجود اسکے ہم اس بار  پھر سے اس بات کی امید رکھتے ہیں کے 67واں جشن یوم جمہوریہ کے موقع پر ہم تمام ہندوستان کے عوام اس بات کا قسم لیں کے ہمارے دستور کو بنانے والے جس سوچ کے ساتھ دستور اور کنسٹی یٹوشن کو عمل میں لایئےتھے  اور ہندوستان کو آزادی کے بعد جیسا بنانے کا سپنا دیکھے تھے اس کی خواہش اور سپنوں کو سچ کرنے میں اپنی محنت اور طاقت کو ملک کے حوالے کرینگے اور ہندوستان کو ایک جمہوری ملک بنا کر دم لینگے. 
( فیروز ہارونی:ریسرچ اسکالر دھلی یونیورسٹی...
fmharuni@gmail.com )

Friday, February 27, 2015

ا نشائے مومن کا تنقیدی تجزیہ

This is my research paper Name coming soon.
                    What is emotion.
I think everyone know about emotion and we also know when our emotions increase and when decrease.let's me today I am saying what is emotion.one man he is sitting in hospital or clinic and he is looking that some body stand in quee and one person came in conter and he gives money wthot any quee and want to recept without any problems.what u will say about that man who came without any qee.This is emotion... If you are a good man..What action u will give.

Monday, February 16, 2015

election and advertising

I am not big writer nor I am big thinker but now I am looking in our area specially in Delhi because I am living Delhi right now.and before some days in 7 Feb delhi election completed.And reselt also came 10 Feb .Every body Now Delhi election reselt my age not more 25 yr and from 10 years I relised that I never looked this type of advertising in electronic media and print media About election. Even after recharg I found that in my mobile msg came about voting any party. this was sarprised for me.afterall I think now parhap's  our society allow this types of things and in t.v and news papers if they not give advertising then every where sad that this is not big party.but is this public demand? This was mine question because as I red in papers in advertising lots of money invested. if they invest that money for our public then that was very beneficiary for AAM AADMI but our election party's not thougt about this matter....this is thinkable thing..


Thank you